ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اترکنڑا میں پہلی مرتبہ سائبر کرائم جال کا پردہ فاش : نائجیریا ، آسام ، تریپورہ سے تعلق رکھنے والے ملزم گرفتار:مسلسل 12دن کی پولس کاوش کا نتیجہ

اترکنڑا میں پہلی مرتبہ سائبر کرائم جال کا پردہ فاش : نائجیریا ، آسام ، تریپورہ سے تعلق رکھنے والے ملزم گرفتار:مسلسل 12دن کی پولس کاوش کا نتیجہ

Tue, 16 Mar 2021 19:44:28    S.O. News Service

کاروار:16؍مارچ  (ایس اؤ نیوز) ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے پیغامات ، فیس بک پر اشتہار کے ذریعے روزگار کا وعدہ ، انعام پانے کی خوشخبری دینا، لکی ڈرا میں انعام ملنے کی خوشخبری دینے جیسے مختلف لالچ بھرے جھانسے دے کر بینک اکاؤنٹس میں رقم جمع کروانے والے ایک بڑے گروہ کا پتہ لگانے میں  کاروار پولس ٹیم کامیاب ہوگئی ہے۔

12دنوں تک مسلسل کارروائی کرتےہوئے پولس نے نائجیریا کے کچھ باشندوں کے تعلق سے پتہ چلایا ہے کہ  سائبر دھوکہ دہی معاملےمیں یہ لوگ کنگ پن ہیں جن کو آسام اور تریپورہ کے بعض لوگ   تعاون کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کو استعمال کرتےہوئے بڑی آسانی کے ساتھ دھوکہ دیتے ہوئے رقومات اپنے نام کرلیتے ہیں۔شبہ ہے کہ    اسی  طرح کے سائبر کرائم کے ذریعے  دھوکہ دہی دینے کے معاملات   کرناٹک سمیت مختلف ریاستوں میں بھی انجام دئے گئے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ  سائبر کرائم میں اس طرح دھوکہ دہی  کرنے والے گروہ کا   پردہ فاش کرنے والا یہ  پہلا معاملہ ہے۔یاد رہے کہ  اترکنڑا ضلع میں حالیہ دنوں میں سائبر کرائم کے معاملات میں اضافہ دیکھا جارہا تھا اور لوگ اس طرح کی دھوکہ دہی سے  کافی پریشان تھے۔

ہوناور تعلقہ گنونتے موگلی کی نیتراوتی ناگپا گوڈا نامی لڑکی سے روزگار کے بہانے 57لاکھ روپئے لوٹے گئے تھے۔ اترکنڑا ضلع سائبر اکنامک اور نارکوٹک کرائم پولس افسران نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے عملے کے ساتھ جانچ شروع کی ۔ مسلسل 12دنوں تک تار سے تارجوڑتےہوئے اس سائبر کرائم جال کا پردہ فاش کیا  گیا ہے جس سے  ضلع کے عوام کو تھوڑی  بہت راحت  ملی ہے۔

سائبر کرائم پولس نے معاملے کو لےکر 4ملزموں کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے 34بینک کھاتوں کو منجمد کردیا ہے۔ اس کے علاوہ فریبی جال کے 24اے ٹی ایم کارڈ، 24چک  بکس، 23موبائیل اور 17سم کارڈس سمیت کئی اشیاء کو ضبط کرلیا ہے۔ معاملے کو لےکر اترکنڑ اضلع ایس پی شیو پرکاش دیوراج نے ضبط کئے گئے بینک پاس بک، چک بک، اے ٹی ایم کارڈ،  موبائیل ، سواپنگ مشین کے متعلق جانچ جاری رہنےکی جانکاری دی اور کہاکہ اترکنڑا ضلع میں درج ہوئے سائبرکرائم معاملات اور ریاست میں انجام دئیے گئے سائبرکرائم معاملات کے متعلق بھی جانچ کی جائے گی اور اس سلسلے میں ریاست کے سبھی سائبر کرائم پولس تھانوں سے رابطہ کرتےہوئے  چھان بین آگے بڑھائی جائے گی۔

فریبی جال کیسےکام کرتاتھا؟:بنگلورو میں آسام وغیرہ سے تعلق رکھنے والے کئی افراد مختلف ہوٹلوں وغیرہ میں کام کرتے ہیں۔ انہی کو استعمال کرتےہوئے فریبی جال کے لوگ بینک اکاؤنٹ کھولتےہیں، جس کے لئے انہیں 6-8ہزارروپئے دئیے جاتے ہیں۔ اسی طرح انہی کے نام پر سم کارڈ بھی لیا جاتاہے۔ اس کے بعد مختلف ناموں کے بینک کھاتوں کو ایک مقامی فرد جال کاکنگ پن نائجیریا کے افراد کو زائد رقم پر بیچ دیتاہے۔ اتنا ہونےکے بعد اصل کام شروع ہوتاہے یعنی یہ سبھی لوگ ملک بھر کے مختلف لوگوں کوفون کرتے ہوئے  روزگار ، انعام ، لکی ڈرا کا جھانسہ دے کر آسام سے تعلق رکھنےو الوں کے بینک کھاتوں میں رقم جمع کروا لیتےہیں۔ الگ الگ اکاؤنٹ میں جمع کرنےو الے افراد اپنی رقم اسی بینک کھاتےسے واپس لیتے ہیں یا پھر پولس تھانےمیں شکایت درج ہونے کوبھانپ کر اپنے پاس موجود سواپنگ مشین سے گھربیٹھے جمع ہوئی رقم کو نکال لیتے ہیں۔بعض دفعہ پولس کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ آخر رقم کس نے اکاؤنٹ سے نکال لی ہے۔ کیونکہ سواپ مشین سے رقم نکالنےکے بعد بینک کھاتے میں صرف پی اوایس درج ہوتاہے۔ یوں رقم کہاں سے اور کس نے نکالی پتہ نہیں چلتا۔ فریبی جال کے افراد کی اسی چالاکی و عیاری کو پولس ٹیم نے بے نقاب کردیا ہے۔

کولار کے اشوک کاتعلق آسام سے  :اس معاملےمیں  گرفتار شدہ  کولا ر کااشوک نامی ملزم آسام اور تریپورہ سے تعلق رکھنےو الوں کے بینک اکاؤنٹ اور سم کارڈ خرید کر نائجیریا کے فریبی جال کو بیچ رہا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ  اس کو ایک آسام کی سہیلی بھی ہے۔ یہی لڑکی نائجیریا کے افراد سے بھی دوستی رکھتی ہے۔ اس طرح یہ جال اپنا کام کرتاہے۔

گنونتے موگلی کی لڑکی سے دھوکہ :ہوناور تعلقہ کے گنونتے موگلی کی نیتراوتی ناگپا گوڈا کو ای میل کے ذریعے بتایا جاتاہے کہ اس کو امریکہ میں نرسنگ کا جاب دلایاجائے گا۔اس کے علاوہ موبائیل اورواٹس اپ کے ذریعے رابطہ کرتے ہوئے مختلف طریقوں سے پھانستے ہوئے پاسپورٹ، ویزا اور میڈیکل رپورٹ سمیت کئی ایک چیزوں کے لئے فیس ادا کرنے کہاگیا۔ نیتراوتی نے  اس پر بھروسہ کرتے ہوئے فریبی جال کے 17بینک اکاؤنٹس کو (کرناٹک، تریپورہ، آسام ، تمل ناڈو، منی پور، گجرات ، دہلی ریاستوں کے بینک کھاتے ) 13اگست سے 17جنوری تک کل 57،14،749روپئے جمع کروائے ہیں۔ معاملے کو لےکر 10فروری کو سی ای این کرائم پولس تھانہ میں شکایت درج ہوئی تھی۔ شکایت درج ہوتےہی سی ای این تھانہ انسپکٹر سیتارام اور ان کاعملہ فوری طورپر ملزموں کی گرفتاری کےلئے ضروری جانکاری حاصل کرنا شروع کیا۔ سبھی بینکوں کے کھاتوں کو بند کروایا۔ ساتھ ہی بینک اکاؤنٹس جن کے نام تھا ان کی پوری معلومات لینے کے بعد اس کی ٹکنکل جانچ کی۔ پھر اس کے بعد  پولس ٹیم کی تشکیل کرتےہوئے ملزموں کی تلاش میں 28فروری کو بنگلورو روانہ ہوئی۔ بنگلورو میں ایک ایک  ملزم کو گرفتا رکرتےہوئے قدم بہ قدم بقیہ لوگوں کی تلاش  کرنے لگے۔

سم کارڈ معاملہ : اس معاملے میں ملزموں نے کل 125سم کارڈ کا استعمال کیا ہے۔ جب کہ کمپنی اور سم کارڈ ڈیلر ملزموں کو بغیر کسی جانچ کے سم کارڈ مہیا کئے جانے کے متعلق بھی جانچ کئےجانے کی ایس پی دیوراج نے بات کہی۔ ملزموں کے بند کئے گئے بینک کھاتوں میں 261528روپئے رقم اور 24ہزارروپیوں کی دو سواپنگ مشین، بائیو میٹرک فنگر پرنٹ تھمب مشین ، 34 بینک کھاتے ،24اے ٹی ایم کارڈ، 24چک بک، 2لیپ ٹاپ، 23موبائیل، 17موبائیل سم کارڈ، 1ٹیب  سمیت پن ڈرائیو، ڈونگل اور وائی فائی روٹر کو ضبط کرلیاگیا ہے


Share: